محمد ذیشان
آسٹریلین جونیئر اوپن اسکواش ٹورنامنٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار ٹائٹلز اپنے نام کرلیے، جس سے پاکستان کے اسکواش مستقبل کی روشن جھلک نظر آئی۔
ٹورنامنٹ میں پاکستان کی تین بہنوں نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ گرلز انڈر 13 کی کیٹیگری میں ماہنور علی نے آسٹریلوی کھلاڑی ریو کوابتا کو یک طرفہ مقابلے میں شکست دی۔
ماہنور نے تینوں گیمز میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2-11، 5-11، اور 6-11 سے کامیابی حاصل کی۔ ان کی یہ کامیابی اسکواش میں پاکستان کی خواتین کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے۔
انڈر 17 گرلز کیٹیگری میں ماہنور کی بڑی بہن مہوش علی نے بھی شاندار کھیل پیش کیا۔ انہوں نے ایڈین ایلما کو لگاتار تین گیمز میں 5-11، 5-11، اور 7-11 سے شکست دی۔
مہوش اور ماہنور کے ساتھ ساتھ ان کی بہن سحرش علی نے بھی انڈر 15 گرلز کیٹیگری میں فائنل تک رسائی حاصل کی، تاہم وہ سخت مقابلے کے بعد فائنل جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔
بوائز کیٹیگری میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔ انڈر 17 کے فائنل میں اذان علی خان نے ہینری کراس کو اسٹریٹ سیٹس میں شکست دے کر ٹائٹل جیتا۔
اذان علی خان نے مقابلہ 0-3 سے اپنے نام کیا اور حریف کھلاڑی کو کسی بھی موقع پر حاوی ہونے کا موقع نہیں دیا، جو ان کی مہارت اور تیاری کی عکاسی کرتا ہے۔
بوائز انڈر 11 کی کیٹیگری میں پاکستان کے احمد علی ناز نے فریڈی گولڈ اسمتھ کو ہرا کر چوتھا ٹائٹل پاکستان کے نام کیا، یوں مجموعی طور پر چار پاکستانی کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں قومی پرچم بلند کیا۔

