کیویز سے بدترین شکست! چیمپئنز ٹرافی سے قبل کیا آنکھ کھلی؟

کیویز سے بدترین شکست! چیمپئنز ٹرافی سے قبل کیا آنکھ کھلی؟
رپورٹ: محمد ذیشان

پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی سے قبل نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ہوم گراؤنڈ پر بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس نے اسکواڈ میں ممکنہ تبدیلیوں کا اشارہ دے دیا ہے۔ گزشتہ روز لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں مہمان نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 78 رنز سے شکست دے کر سہ ملکی سیریز کے افتتاحی میچ میں کامیابی حاصل کی۔ اس ناکامی نے قومی ٹیم کے چیمپئنز ٹرافی اسکواڈ کی سلیکشن پر کئی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

قومی ٹیم نے بابراعظم اور فخر زمان کی جوڑی سے اوپننگ کا آغاز کیا، لیکن بابر جلد ہی آؤٹ ہو گئے۔ وہیں، پاکستان کے فاسٹ بالنگ اٹیک، جس میں شاہین آفریدی اور نسیم شاہ شامل تھے، نیوزی لینڈ کے بیٹرز کے آگے بے بس نظر آیا۔

پاکستان نے اسپن بالنگ کے شعبے میں ابرار احمد، خوشدل شاہ اور سلمان آغا کو آزمایا، لیکن ابرار کے علاوہ دونوں اسپنرز وکٹ لینے میں ناکام رہے۔ برصغیر کی کنڈیشنز میں اسپنرز کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تجربہ کار کرکٹرز پہلے ہی سلیکشن پر سوال اٹھا چکے تھے، کیونکہ دیگر ٹیمیں اسپنرز کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہیں، جب کہ گرین شرٹس نے محض ایک اسپیشلسٹ اسپنر کو کھلایا، جس کا نقصان قذافی اسٹیڈیم میں واضح نظر آیا۔

سابق کرکٹرز چیمپئنز ٹرافی اسکواڈ میں نوجوان اسپنر سفیان مقیم اور آل راؤنڈر عامر جمال کو شامل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے اسپنرز نے قذافی اسٹیڈیم میں شاندار کارکردگی دکھائی، جس میں مچل سینٹنر نے 3، مائیکل بریسویل نے 2 اور گلین فلپس نے ایک وکٹ حاصل کی۔

اس سے قبل وسیم اکرم، کامران اکمل، باسط علی اور احمد شہزاد سمیت کئی سابق کرکٹرز نے بھی موجودہ اسکواڈ کی سلیکشن پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اسپنرز کے ساتھ ساتھ آل راؤنڈر عامر جمال کو شامل کرنے کی تجویز دی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ چیمپئنز ٹرافی سے قبل کیا اہم فیصلے کرتا ہے تاکہ ٹیم ان غلطیوں کو دُہرانے سے بچ سکے۔

Related Post

en_USEnglish