میلبرن ٹیسٹ: آسٹریلیا کی فتح، بھارت کے خلاف سیریز میں 2-1 کی سبقت

محمد ذیشان

میلبرن:
آسٹریلیا نے باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے 5ویں روز بھارت کو 184 رنز سے شکست دے کر 5 ٹیسٹ میچوں کی بارڈر گواسکر ٹرافی سیریز میں 2-1 کی برتری حاصل کرلی۔ اس فتح کے بعد بھارت کے لیے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچنے کی امیدیں تقریباً دم توڑ گئی ہیں۔

سیریز کے چوتھے ٹیسٹ کے پانچویں روز بھارت کی ٹیم 340 رنز کے ہدف کے تعاقب میں محض 155 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ بھارتی ٹیم کے 9 کھلاڑی ڈبل فگرز میں بھی نہ جا سکے۔ یشسوی جیسوال نے 84 اور رشبھ پنت نے 30 رنز کی اننگز کھیلیں، لیکن وہ ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔

آسٹریلیا کی جانب سے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا گیا۔ کپتان پیٹ کمنز اور اسکاٹ بولینڈ نے 3، 3 وکٹیں حاصل کیں، جب کہ اسپنر نیتھن لوئن نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ مچل اسٹارک اور ٹریوس ہیڈ نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ بھارتی ٹیم کی آخری سات وکٹیں صرف 34 رنز کے اضافے سے گر گئیں۔

پیٹ کمنز کو دونوں اننگز میں 3، 3 وکٹیں لینے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ اس شاندار کارکردگی کی بدولت کینگروز نے نہ صرف چوتھا ٹیسٹ جیتا بلکہ سیریز میں دو ایک کی برتری بھی حاصل کرلی۔

اس شکست کے بعد بھارت کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اسے سیریز برابر کرنے کے لیے سڈنی میں جیتنا ضروری ہوگا تاکہ بارڈر-گاوسکر ٹرافی کو اپنے پاس برقرار رکھا جا سکے۔ دوسری جانب آسٹریلیا کو فائنل میں پہنچنے کے لیے سڈنی ٹیسٹ جیتنا یا ڈرا کرنا ہوگا۔

چوتھے ٹیسٹ کے دوران میلبرن کرکٹ گراؤنڈ (ایم سی جی) میں شائقین کی حاضری نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ پانچ دنوں میں 3 لاکھ 50 ہزار 700 سے زائد شائقین نے میدان کا رخ کیا، جو 1937 کے بعد کسی بھی ٹیسٹ میچ کے دوران سب سے زیادہ تعداد ہے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق پانچویں دن کے پہلے سیشن میں 51 ہزار 371 شائقین گراؤنڈ میں موجود تھے۔ یہ تعداد اس سے پہلے 2022 کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت اور پاکستان کے میچ کے دوران گراؤنڈ آنے والے 90 ہزار 293 شائقین کے بعد غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے۔

یہ ٹیسٹ میچ آسٹریلوی کرکٹ کی تاریخ میں ایک یادگار اضافہ ہے، جو نہ صرف میدان میں شائقین کی غیر معمولی تعداد کی وجہ سے بلکہ بھارت کے خلاف شاندار کارکردگی کی بدولت بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Related Post

en_USEnglish