محمد ذیشان
آکلینڈ میں کھیلے گئے تیسرے ٹی20 میچ میں پاکستان نے اوپنر حسن نواز کی دھواں دار سنچری کی بدولت نیوزی لینڈ کے خلاف 205 رنز کا ہدف حاصل کر لیا۔ یہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی بلے باز کی تیز ترین سنچری تھی، جس نے میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔
نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 19.5 اوورز میں 204 رنز بنائے۔ کیوی ٹیم کو ابتدا میں ہی نقصان اٹھانا پڑا جب اوپنر فلن ایلن بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ تاہم، ٹم سیفرٹ اور چیپمین نے دوسری وکٹ کے لیے 40 رنز کی شراکت قائم کی، مگر سیفرٹ 19 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوگئے۔
مارک چیپمین نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 54 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ کپتان مچل سینٹنر نے 35 رنز بنا کر ٹیم کے مجموعے کو 200 کے پار پہنچایا۔ نیوزی لینڈ کی اننگز کے دوران پاکستانی بولرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اور پوری کیوی ٹیم 204 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
پاکستانی ٹیم نے ہدف کے تعاقب میں شاندار آغاز کیا۔ اوپنرز حسن نواز اور محمد حارث نے برق رفتار بیٹنگ کی۔ محمد حارث 41 رنز بنا کر 74 کے مجموعے پر پویلین لوٹ گئے۔
کپتان سلمان علی آغا نے حسن نواز کا بھرپور ساتھ دیا اور 31 گیندوں پر 51 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ اس دوران حسن نواز نے اپنی شاندار فارم جاری رکھتے ہوئے کیریئر کی پہلی سنچری اسکور کی، جو پاکستان کی تاریخ کی تیز ترین سنچری ثابت ہوئی۔
حسن نواز نے 45 گیندوں پر ناقابل شکست 105 رنز بنائے، جس میں شاندار چھکے اور چوکے شامل تھے۔ ان کی اس عمدہ کارکردگی نے پاکستان کو 19 ویں اوور میں ہی فتح سے ہمکنار کر دیا۔
نیوزی لینڈ کے بولرز بے بس نظر آئے اور صرف ایک وکٹ حاصل کر سکے، جو جیکب ڈفی کے حصے میں آئی۔ پاکستان کی اس شاندار جیت میں حسن نواز کی اننگز مرکزی کردار ثابت ہوئی، جس نے میچ کا رخ یکسر بدل دیا۔

