محمد ذیشان
لاہور: چیمپئنز ٹرافی میں گروپ بی کے ایک اہم میچ میں افغانستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کو 8 رنز سے شکست دے دی، جس کے نتیجے میں انگلینڈ سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگیا۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے اس مقابلے میں افغان ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 325 رنز کا مضبوط ہدف دیا۔
افغانستان کی اننگز میں ابراہیم زادران نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے 177 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کے علاوہ عظمت اللہ عمرزئی نے 41، حشمت اللہ شاہدی اور محمد نبی نے 40، 40 رنز بنائے۔ رحمان اللہ گربز 6، صدیق اٹل 4 اور رحمت شاہ بھی 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ راشد خان اور گلبدین نائب 1، 1 رن کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
انگلینڈ کی جانب سے جوفرا آرچر نے بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں۔ لیام لیونگسٹن نے 2، جبکہ عادل رشید اور جیمی اوورٹن نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ تاہم، وہ افغان بلے بازوں کو بڑے اسکور تک پہنچنے سے روکنے میں ناکام رہے۔
جواب میں انگلینڈ کی ٹیم 326 رنز کے تعاقب میں 49.5 اوورز میں 317 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ جو روٹ نے 120 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، لیکن وہ اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ کپتان جوس بٹلر اور بین ڈکٹ نے 38، 38 رنز بنائے، جبکہ جیمی اوورٹن 32 اور ہیری بروک 25 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
دیگر کھلاڑیوں میں جوفرا آرچر 14، فل سالٹ 12، لیام لیونگسٹن 10، جیمی اسمتھ 9 اور عادل راشد 5 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ افغان باؤلرز نے بہترین کارکردگی دکھائی اور انگلش بلے بازوں کو دباؤ میں رکھا۔
افغانستان کی جانب سے عظمت اللہ عمرزئی نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں اور اپنی ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ محمد نبی نے 2، جبکہ فضل الحق فاروقی اور گلبدین نائب نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
اس جیت کے ساتھ افغانستان نے نہ صرف اپنی سیمی فائنل میں جگہ بنانے کی امیدوں کو برقرار رکھا بلکہ انگلینڈ کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ افغان ٹیم کی یہ جیت ان کے جارحانہ انداز اور متوازن کارکردگی کا نتیجہ تھی، جس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ بڑی ٹیموں کے خلاف بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
چیمپئنز ٹرافی کے اس ایونٹ میں افغانستان کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کرکٹ ان کی ٹیم کو ایک مضبوط حریف قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب انگلینڈ کی ناقص کارکردگی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، اور ماہرین کے مطابق ٹیم کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

