رپورٹ: محمد زیشان
کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سہ ملکی سیریز کے تیسرے میچ میں پاکستان نے تاریخ رقم کر دی۔ 353 رنز کے بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے قومی ٹیم نے نہ صرف فتح سمیٹی بلکہ کئی ریکارڈز بھی اپنے نام کیے۔
اس ہائی اسکورنگ مقابلے میں پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف 49ویں اوور میں 4 وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کیا۔ یہ پاکستانی ٹیم کا کسی بھی ون ڈے انٹرنیشنل میں کامیاب ترین ہدف کا تعاقب تھا، جس نے شائقین کرکٹ کو دنگ کر دیا۔
کپتان محمد رضوان نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 122 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، جبکہ سلمان علی آغا نے 16 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 134 رنز بنا کر ٹیم کو فتح دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 260 رنز کی ریکارڈ شراکت قائم کی، جو پاکستان کے ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں ایک یادگار لمحہ بن گیا۔
محمد رضوان اور سلمان آغا کی بیٹنگ کے چرچے سوشل میڈیا پر بھی دیکھنے کو ملے۔ بھارتی میڈیا اور یوٹیوبرز نے بھی پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر حیرانی کا اظہار کیا اور ان کی تعریف کی۔ مشہور بھارتی صحافی وکرانت گپتا، اسپورٹس یاری اور دیگر کرکٹ مبصرین نے سلمان آغا کو پاکستان کے لوئر مڈل آرڈر کا جاوید میانداد قرار دے دیا۔
پاکستانی شائقین کرکٹ کے لیے یہ فتح نہایت خوش آئند ثابت ہوئی، کیونکہ چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے ٹیم کی تیاریوں کو مزید تقویت ملی ہے۔ دوسری جانب بھارتی فینز نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ دونوں ٹیمیں بھرپور فارم میں آ چکی ہیں، جو 23 فروری کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچ کو مزید دلچسپ بنا دے گا۔
بھارتی میڈیا میں اس میچ کے حوالے سے مختلف تبصرے دیکھنے کو ملے۔ کچھ تجزیہ کاروں نے پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کی طاقت کو سراہا، جبکہ کچھ نے اسے چیمپئنز ٹرافی سے پہلے خطرے کی گھنٹی قرار دیا۔ بھارتی کرکٹ کمیونٹی میں یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ اگر پاکستان اسی فارم میں رہا تو بھارت کے لیے چیمپئنز ٹرافی میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
یہ تاریخی کامیابی پاکستانی ٹیم کے لیے ایک حوصلہ افزا لمحہ ہے، جس سے نہ صرف ٹیم کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی بیٹنگ پاور کو مزید تسلیم کیا جائے گا۔

