Reported by Zeeshan Sharifلاہور: پاکستان کی شان، سہیل عدنان، جو 18 سال بعد برٹش جونیئر اوپن سکواش چیمپئن شپ جیتنے والے قومی ہیرو بنے، وطن واپس پہنچ گئے۔ ان کی آمد پر پنجاب سکواش کمپلیکس میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں کھلاڑی کی شاندار کامیابی کا جشن منایا گیا اور قومی ہیرو کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔پنجاب سکواش کمپلیکس میں ہونے والی اس تقریب میں سیکرٹری داخلہ پنجاب اور چیئرمین پنجاب سکواش ایسوسی ایشن نور الامین مینگل نے سہیل عدنان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سہیل عدنان کی کامیابی کو پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ کامیابی نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے۔تقریب میں چیمپئن کے والدین، اہل خانہ، کوچز، اور سکواش ایسوسی ایشن کے اعلیٰ عہدیداران نے بھی شرکت کی۔ ان کی موجودگی نے اس تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔ سکواش کے حلقوں نے سہیل عدنان کی اس شاندار کامیابی کو پاکستان میں سکواش کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔پنجاب سکواش کمپلیکس اس موقع پر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ قومی ہیرو کی کامیابی پر جذباتی لمحات دیکھنے کو ملے۔ عوام اور کھلاڑیوں نے ان کا دل سے استقبال کیا اور ان کے اعزاز میں گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔نور الامین مینگل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سہیل عدنان کی محنت اور عزم کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ سہیل عدنان کی کامیابی نہ صرف ان کی اپنی بلکہ پوری قوم کی جیت ہے اور یہ ان کے انتھک عزم و حوصلے کا نتیجہ ہے۔اس موقع پر سہیل عدنان نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور اپنی کامیابی کو والدین، کوچز، اور پاکستان کے عوام کی دعاؤں کا ثمر قرار دیا۔ انہوں نے سکواش کی ترقی کے لیے حکومتی اور عوامی تعاون پر زور دیا۔پنجاب سکواش ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے کہا کہ سہیل عدنان کی جیت پاکستانی کھلاڑیوں کو عالمی مقابلوں میں مزید جوش و خروش کے ساتھ حصہ لینے کی ترغیب دے گی۔ یہ کامیابی ایک نئے دور کا آغاز ہے۔تقریب کے اختتام پر قومی ہیرو کے اعزاز میں خصوصی دعا کی گئی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔

