کھیل کے میدان میں سیاست کا سایہ: پاک بھارت کرکٹ کا مستقبل کیا ہوگا؟

لاہور: پاک بھارت کرکٹ تنازع کا مستقل حل نکالنے کا مطالبہ

رپورٹ: محمد ذیشان
پاک بھارت کرکٹ تنازع کا مستقل حل نکالنے کا مطالبہ سامنے آ گیا ہے۔ سابق پاکستانی وکٹ کیپر کامران اکمل نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ایونٹس میں پاک بھارت میچز اس وقت تک شامل نہ کرے جب تک دونوں ممالک کے درمیان باہمی سیریز دوبارہ شروع نہ ہو۔


بھارتی ٹیم کا دوہرا معیار

کامران اکمل کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم ایک طرف سیاسی مسائل کا حوالہ دے کر پاکستان میں کھیلنے سے انکار کرتی ہے، اور دوسری طرف وہ چاہتی ہے کہ پاکستان ان کے ملک میں جا کر میچز کھیلے۔ انہوں نے اس رویے کو “دوہرا معیار” قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے پر زور دیا۔


2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے لیے ہائبرڈ ماڈل

کامران اکمل نے تجویز دی کہ اگر 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے لیے ہائبرڈ ماڈل اپنایا جاتا ہے تو یہی اصول بھارت میں ہونے والے دیگر آئی سی سی ایونٹس پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے۔


پاک بھارت میچز کا انعقاد مسائل میں اضافہ

وکٹ کیپر بیٹسمین نے خبردار کیا کہ جب تک باہمی کرکٹ بحال نہیں ہوتی، آئی سی سی ایونٹس میں پاک بھارت میچز کا انعقاد مسائل کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے آئی سی سی پر زور دیا کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہونے تک اس تنازع میں غیر جانبدار کردار ادا کرے۔


2008 کے بعد سے دو طرفہ کرکٹ کی معطلی

یاد رہے کہ بھارت نے 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد سے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ کرکٹ کھیلنے سے انکار کر رکھا ہے۔ اس کے بعد سے دونوں ٹیموں کے درمیان صرف آئی سی سی ایونٹس میں میچز ہوئے ہیں، جو کشیدگی کا باعث بنتے رہے ہیں۔


آئی سی سی کا ممکنہ کردار

کامران اکمل نے تجویز دی کہ آئی سی سی کو مضبوط اور غیر جانبدار کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر بھارت پاکستانی ٹیم کی میزبانی نہیں کرتا تو پاکستان کو بھی وہاں نہ جانے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ یہ اصول دونوں ممالک کے لیے مساوی ہونا چاہیے۔


1996 کے بعد پاکستان میں آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی

1996 کے بعد پاکستان نے کسی بھی آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی نہیں کی۔ یہ صورتحال پاکستان کے کرکٹ مداحوں کے لیے مایوس کن ہے اور ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔


مضبوط فیصلہ لینے کی ضرورت

کامران اکمل نے کہا کہ یہی وقت ہے کہ پاکستان ایک مضبوط اور واضح فیصلہ لے۔ انہوں نے حکومت اور کرکٹ بورڈ سے درخواست کی کہ وہ قومی وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھی فیصلہ کریں اور اپنی انا پر سمجھوتہ نہ کریں۔

Related Post

en_USEnglish