پاکستانی باکسر محمد وسیم کی باکسنگ کی دنیا میں کامیاب ترین مہم جاری ہے اور وہ آئندہ جنوری اور اپریل میں دو اہم عالمی فائٹس میں حصہ لینے والے ہیں، جن سے ان کی عالمی رینکنگ مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔ محمد وسیم، جو 15 پروفیشنل فائٹس میں سے 13 میں کامیاب ہوئے ہیں، نے حالیہ دنوں میں ایکسپریس نیوز کے مارننگ شو “ایکسپریسو” میں اپنی زندگی اور کیریئر کے حوالے سے بات کی۔
محمد وسیم نے اس بات کا ذکر کیا کہ حالیہ دنوں میں ویزا مسائل نے انہیں کافی پریشان کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے انہیں عالمی سطح پر اپنے منصوبوں اور تیاروں میں مشکلات کا سامنا تھا۔ تاہم، ان کے لیے ایک خوشی کی بات یہ تھی کہ مالٹا میں ورلڈ ٹائٹل فائٹ جیت کر انہوں نے نہ صرف اپنے ملک کا نام روشن کیا، بلکہ اپنے کیریئر میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا۔ اس کامیابی نے ان کے حوصلے کو مزید بڑھایا اور وہ اب اپنی اگلی فائٹس کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
محمد وسیم نے اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ اگلے ہفتے وہ انگلینڈ جا رہے ہیں جہاں وہ لیورپول میں اپنی عالمی فائٹس کی تیاری کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی تیاریوں میں سخت محنت کریں گے تاکہ آئندہ فائٹس میں کامیاب ہو سکیں اور عالمی سطح پر اپنے پاکستان کا نام بلند کر سکیں۔
ایک سوال کے جواب میں محمد وسیم نے اپنے مزاج کے بارے میں بتایا کہ باکسنگ رنگ میں ان کا رویہ جارحانہ ہوتا ہے، جس کی بدولت وہ اپنے حریفوں کے خلاف کامیاب ہوتے ہیں، مگر عام زندگی میں وہ زیادہ پرسکون اور متوازن رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایک باکسر اپنے روزمرہ کے معمولات میں بھی رنگ جیسا رویہ اپنائے گا تو اس سے نہ صرف اس کی ذاتی زندگی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ اس کے ارد گرد کے ماحول میں بھی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے وہ رنگ میں تو جارحانہ طرز عمل اپناتے ہیں، مگر عام زندگی میں پرسکون اور نرم مزاج رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔
محمد وسیم نے اس بات کو بھی سراہا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کی بدولت نئے باکسرز کو بہتر پروموشن مل رہی ہے، جو کہ ماضی میں ایک چیلنج رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہمارے امیچور باکسرز عالمی سطح پر بہت باصلاحیت تھے لیکن انہیں میڈیا کی کم کوریج اور پروموشن کی کمی کی وجہ سے وہ پذیرائی نہیں مل سکی جو انہیں حاصل ہونی چاہیے تھی۔ تاہم، اب سوشل میڈیا کے ذریعے باکسرز کو نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی پہچان مل رہی ہے، جو کہ ان کے کیریئر کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس کے علاوہ، محمد وسیم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں کھیلوں کے حوالے سے آگاہی اور توجہ میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں میں بھی عوامی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے ارشد ندیم کی گولڈ میڈل جیتنے کا حوالہ دیا، جس سے نہ صرف پاکستان کا نام روشن ہوا بلکہ دیگر کھیلوں کی طرف حکومت اور عوام کی توجہ بھی بڑھی ہے۔ ان کے مطابق، یہ ایک مثبت تبدیلی ہے کیونکہ اس سے پاکستان میں کھیلوں کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور سپورٹ حاصل ہو سکتی ہے، جس سے پاکستان کے کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
محمد وسیم نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وہ اپنے کیریئر کی اگلی منزلوں پر پہنچنے کے لیے اپنی محنت اور لگن سے کام لے رہے ہیں اور ان کا مقصد صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث بننا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کے نوجوان باکسرز کو صحیح رہنمائی اور وسائل ملیں، تو وہ عالمی سطح پر بڑا نام پیدا کر سکتے ہیں اور ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کر سکتے ہیں۔
محمد وسیم کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک کی نمائندگی کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور یہی جذبہ انہیں مزید کامیاب بنانے کی طاقت دیتا ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ عالمی سطح پر مزید ٹائٹلز جیتیں اور پاکستان کو باکسنگ کی دنیا میں ایک نیا مقام دلائیں۔

