چیمپئنز ٹرافی: پاکستان نے پاور پلے میں کم ترین اسکور کا ناپسندیدہ ریکارڈ بنا لیا

محمد زیشان

پاکستان کرکٹ ٹیم نے ایک روزہ فارمیٹ میں ایک نیا ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں جاری چیمپئنز ٹرافی کے افتتاحی میچ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے پاور پلے (ابتدائی 10 اوورز) میں 22 رنز بنا کر اپنی سرزمین پر کم ترین اسکور بنانے کا ریکارڈ قائم کیا۔

ایک روزہ فارمیٹ میں ابتدائی 10 اوورز میں 30 گز کے دائرے سے باہر صرف دو فیلڈرز کھڑے کرنے کی اجازت ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس مرحلے میں زیادہ رنز بنانے کے مواقع موجود ہوتے ہیں۔ تاہم، پاکستانی ٹیم ابتدائی پاور پلے میں مشکلات کا شکار رہی اور دو وکٹوں کے نقصان پر محض 22 رنز بنا سکی۔

یہ ریکارڈ پاکستان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں، لیکن منفی معنوں میں، کیونکہ اس سے قبل پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں 19 رنز کا کم ترین اسکور بنایا تھا۔ تاہم، وہ میچ متحدہ عرب امارات کے شہر ابو ظہبی میں کھیلا گیا تھا، اس لیے کراچی میں بنایا گیا یہ اسکور پاکستان کی سرزمین پر سب سے کم پاور پلے اسکور بن گیا۔

پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ اس میچ میں جدوجہد کرتی نظر آئی، خاص طور پر ابتدائی بلے باز نیوزی لینڈ کے باؤلرز کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔ نیوزی لینڈ کے فاسٹ باؤلرز نے بہترین لائن اور لینتھ کے ساتھ بولنگ کی، جس کی وجہ سے پاکستانی بلے باز کھل کر کھیلنے میں ناکام رہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان نے پاور پلے میں اتنا کم اسکور کیا ہو۔ پاکستان کا ایک روزہ کرکٹ میں پاور پلے کے اندر سب سے کم اسکور 9 رنز ہے، جو 2018 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ڈونیڈن میں بنایا گیا تھا۔ اس میچ میں بھی پاکستانی بلے باز ابتدائی اوورز میں دباؤ کا شکار رہے تھے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق، پاکستانی ٹیم کو اپنی ابتدائی بیٹنگ میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر پاور پلے کے دوران جارحانہ انداز اپنانا ہوگا تاکہ ٹیم کم از کم ابتدائی 10 اوورز میں معقول اسکور بنا سکے۔ اگر بیٹنگ میں بہتری نہ آئی تو آئندہ میچز میں بھی ٹیم مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے۔

اس میچ میں پاکستانی ٹیم کے کم اسکور کی ایک اور وجہ نیوزی لینڈ کے باؤلرز کی عمدہ کارکردگی تھی، جنہوں نے پاکستانی بلے بازوں کو کھل کر شاٹس کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ کپتان مچل سینٹنر کی قیادت میں کیویز باؤلرز نے بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ باؤلنگ کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان ایک ناپسندیدہ ریکارڈ بنانے پر مجبور ہوگیا۔

یہ ریکارڈ پاکستان کرکٹ کے لیے یقینی طور پر تشویشناک ہے، لیکن ٹیم کے لیے سبق بھی ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی میں بہتری لائے۔ کوچنگ اسٹاف کو چاہیے کہ وہ اگلے میچز میں پاور پلے کے دوران اسٹرائیک ریٹ بڑھانے پر کام کرے تاکہ ٹیم کا آغاز زیادہ بہتر ہوسکے۔

Related Post

en_USEnglish