پی سی بی کے پاس دو راستے: ایونٹ میں حصہ نہ لیں یا بھارتی ٹیم سے نہ کھیلیں

چیمپئینز ٹرافی کا فیصلہ میدان کی بجائے ٹیبل پر ہوگا، اگلے ہفتے آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں معاملہ پہنچے گا

(رپورٹ محمد ذیشان لاہور)چیمپئینز ٹرافی کا فیصلہ میدان کی بجائے ٹیبل پر ہوگا، اگلے ہفتے آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں معاملہ پہنچے گا

چیمپئینز ٹرافی کے انعقاد میں مشکلات کا سامنا، پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز کے حوالے سے تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ بھارتی ٹیم کے پاکستان آنے سے انکار کے بعد یہ معاملہ آئی سی سی کی بورڈ میٹنگ میں پہنچنے والا ہے، جو آئندہ ہفتے ویڈیو کال پر متوقع ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا اعلان کیا ہے، اور تمام میچز کی میزبانی پاکستان میں ہی کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ تاہم، بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) یو اے ای میں اپنے میچز کھیلنے کی بات کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں آئی سی سی سے ہائبرڈ ماڈل کے حوالے سے بات چیت متوقع ہے، جس میں پاکستان کو یہ کہا جائے گا کہ وہ اس ماڈل کو قبول کرے۔

پاکستانی کرکٹ بورڈ کو دو آپشنز دیے جا سکتے ہیں: یا تو ایونٹ میں حصہ نہ لیا جائے یا بھارتی ٹیم سے نہ کھیلا جائے۔ دونوں فریق اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں، اور آئی سی سی کا کردار اس تنازع میں مبہم نظر آ رہا ہے۔

آئی سی سی میں بھارت کے مالی مفادات کی وجہ سے پاکستان کے موقف کا چیلنج بڑھتا جا رہا ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے چیف جے شاہ کے آئی سی سی میں آنے کے بعد یہ توازن مزید بگڑنے کا خدشہ ہے، کیونکہ بھارت کی حمایت کا امکان زیادہ ہے۔

پی سی بی کو اس بورڈ میٹنگ میں اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے لابنگ کی ضرورت ہوگی، اور اس ضمن میں محسن نقوی نے انگلش کرکٹ بورڈ کے حکام سے ملاقات بھی کی ہے۔ اگر فیصلہ پاکستان کے حق میں نہ آیا تو پی سی بی قانونی راستہ اختیار کرنے کا بھی سوچ رہا ہے۔

پاکستان میں اسٹیڈیمز کی تزئین و آرائش پر 13 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، اور پی سی بی کو اس سے مالی فائدہ اٹھانے کی امید ہے۔ تاہم، اگر بھارتی ٹیم نے میچ نہیں کھیلا تو براڈکاسٹرز کی طرف سے آئی سی سی کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

آئی سی سی بورڈ ڈائریکٹرز میں پاکستان، بھارت، انگلینڈ، آئرلینڈ، نیوزی لینڈ، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ، سری لنکا، ویسٹ انڈیز، اور دیگر ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔ پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک کسی میٹنگ کی اطلاع نہیں ملی، اور وہ اپنے موقف پر قائم ہیں کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے مسائل نہیں ہیں، لہذا بھارت کو بھی پاکستان آ کر کھیلنا چاہیے

Related Post

en_USEnglish