"پاکستان ویمنز ٹیم کی کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ کی ادائیگی میں تاخیر"

پاکستان ویمنز ٹیم کے سینٹرل کنٹریکٹس میں تاخیررپورٹ: محمد ذیشانپاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ کی ادائیگیاں تاحال نہیں ہو سکیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نومبر کے وسط میں 16 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا تھا، لیکن اب تک ادائیگیاں ممکن نہ ہو سکیں۔سینٹرل کنٹریکٹس میں کمیرواں سال پی سی بی نے سینٹرل کنٹریکٹ کی کیٹیگریز میں تبدیلیاں کیں، اور کھلاڑیوں کی تعداد 20 سے کم کرکے 16 کردی۔ اس فیصلے کی بنیاد کھلاڑیوں کی پرفارمنس پر رکھی گئی۔ نئے کنٹریکٹس کو 2024-25 کے سیزن کے لیے مختص کیا گیا ہے۔پرفارمنس کی بنیاد پر ترمیمپی سی بی نے اس سال ویمنز ٹیم کی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لیا اور نئے کنٹریکٹس دیے۔ تاہم، کھلاڑیوں کے لیے اعلان کردہ اضافہ ان معاہدوں میں شامل نہیں کیا گیا، جس پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔بجٹ میں اضافے کا اعلانرواں سال کے بجٹ میں پی سی بی نے ویمنز کرکٹ کے فروغ کے لیے کنٹریکٹس میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن موجودہ کنٹریکٹس پچھلے سال کے معاہدوں کی بنیاد پر دیے گئے ہیں، جو بورڈ کے وعدے کے برعکس ہیں۔ادائیگیوں میں تاخیر کی وجہپی سی بی ذرائع کے مطابق سینٹرل کنٹریکٹ کی ادائیگیوں میں تاخیر کی بنیادی وجہ تمام کھلاڑیوں کا معاہدوں پر دستخط نہ کرنا ہے۔ دستخط مکمل ہونے کے بعد جولائی سے اب تک کی تمام ادائیگیاں کر دی جائیں گی۔پچھلے سال کی مراعات کا موازنہگزشتہ سال پی سی بی نے کھلاڑیوں کے کنٹریکٹس میں 32 فیصد تک اضافہ کیا تھا، جس میں ون ڈے میچ فیس کو 100 فیصد اور ٹی ٹوئنٹی فیس کو 50 فیصد بڑھایا گیا تھا۔ اس سال اعلان کردہ اضافہ ان فوائد سے ہم آہنگ نہیں ہے۔کھلاڑیوں کی مایوسیسینٹرل کنٹریکٹس میں تاخیر اور اعلان کردہ اضافے کو شامل نہ کرنے پر کھلاڑیوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ ان تاخیرات سے کھلاڑیوں کی کارکردگی اور اعتماد پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔پی سی بی کے اقدامات کی اہمیتویمنز کرکٹ کی ترقی اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پی سی بی کے اقدامات اہم ہیں۔ تاہم، ایسے معاملات میں شفافیت اور وعدوں کی پاسداری ادارے کی ساکھ کے لیے ضروری ہیں۔

Related Post

en_USEnglish