پاکستانی ویٹ لفٹنگ کو بڑا دھچکا، اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی پر دو آفیشلز پر پابندی

ذیشان شریف

پاکستان میں ویٹ لفٹنگ کے کھیل کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی پر پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے دو اہم آفیشلز پر چار سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (آئی ٹی اے) نے فیڈریشن کے سابق نائب صدر امجد امین بٹ اور قومی ویٹ لفٹنگ کوچ وقاص اکبر کو کھیل سے نااہل قرار دے دیا ہے۔

آئی ٹی اے کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق دونوں آفیشلز کو مختلف شقوں کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا، جس کی بنیاد پر ان پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس فیصلے سے پاکستانی ویٹ لفٹنگ کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو پہلے ہی بین الاقوامی مقابلوں میں مشکلات کا شکار ہے۔

رپورٹ کے مطابق، فیڈریشن کے سابق صدر حافظ عمران بٹ اور کوچ عرفان بٹ کے کیسز کو ثالثی عدالت میں بھیج دیا گیا ہے، جہاں ان کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی۔ آئی ٹی اے نے ان دونوں افراد کے خلاف بھی پابندی کی سفارش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں ویٹ لفٹنگ کا مستقبل مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔

پاکستانی ویٹ لفٹنگ پہلے ہی اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے پابندیوں کا شکار ہو چکی ہے، اور اب آفیشلز پر لگنے والی پابندیاں ملکی کھیل کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس معاملے پر پاکستانی حکام کی خاموشی بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے، اور یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت اور فیڈریشن اس بحران سے نکلنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہیں۔

ماضی میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں اور آفیشلز پر اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات لگتے رہے ہیں، لیکن اس بار معاملات زیادہ سنگین نظر آ رہے ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ کھیلوں کی تنظیمیں اینٹی ڈوپنگ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کریں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائیں۔

پاکستان میں کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو مستقبل میں دیگر کھیلوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ وقت ہے کہ حکومت اور کھیلوں کے ذمہ دار ادارے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور ڈوپنگ کے خلاف سخت اقدامات کریں۔

اس پابندی کے بعد پاکستانی ویٹ لفٹرز کے لیے بین الاقوامی سطح پر حصہ لینا مزید مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ اینٹی ڈوپنگ قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی ساکھ کو پہلے ہی نقصان پہنچا ہے۔ حکام کو چاہیے کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے مؤثر حکمت عملی ترتیب دیں۔

ویٹ لفٹنگ پاکستان میں ایک مقبول کھیل رہا ہے، لیکن حالیہ پابندیوں اور ڈوپنگ اسکینڈلز کے باعث اس کی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ پاکستانی کھیلوں کے حکام اور فیڈریشن اس بحران سے نکلنے کے لیے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔

Related Post

en_USEnglish