بابراعظم کی بطور اوپنر شمولیت پر باسط علی کی شدید تنقید، رضوان بھی ناخوش

محمد ذیشان

قومی ٹیم کے سابق کرکٹر باسط علی نے بھی بابراعظم کو بطور اوپنر کھلانے کے سلیکشن کمیٹی کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ سہ ملکی سیریز میں پاکستان نے تین میچز کھیلے، جن میں بابراعظم نے فخر زمان کے ساتھ اوپننگ کی، تاہم وہ کوئی نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکے۔ بابراعظم نے تینوں اننگز میں بالترتیب 10، 23 اور 29 رنز بنائے، جو ان کے معیار کے مطابق معمولی اسکور ہیں۔

اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے باسط علی نے ٹیم مینجمنٹ کے فیصلوں پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ بابراعظم سے اننگز اوپن کروانے کا مشورہ کس نے دیا۔ انہوں نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بابراعظم تیسرے نمبر پر کھیلتے ہوئے جنوبی افریقہ کے خلاف 50-70 رنز بنا رہے تھے، لیکن ان کی پوزیشن کو اچانک تبدیل کر دیا گیا۔

باسط علی کا کہنا تھا کہ سہ فریقی سیریز میں بابراعظم محض 62 رنز بنا سکے، جو ٹیم انتظامیہ کی حکمت عملی اور ذہنیت پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک غیر منطقی فیصلہ تھا، جس نے بابراعظم کی کارکردگی کو متاثر کیا۔

سابق کرکٹر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کپتان محمد رضوان اسکواڈ میں آل راؤنڈر فہیم اشرف کی شمولیت سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فہیم اشرف کو محض دو اوورز دیے گئے، اور جب انہیں دوبارہ بولنگ کے لیے بلایا گیا تو پاکستان تقریباً میچ ہار چکا تھا، جو ٹیم پلاننگ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہمیشہ بھارت کے خلاف میچ پر بات کرتے رہتے ہیں، لیکن ہمیں پہلے نیوزی لینڈ کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا موجودہ ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلنے کے لیے تیار ہے؟ کیا پچ کنڈیشنز کے مطابق حکمت عملی بنائی گئی ہے؟ اور کیا سلمان آغا دس اوورز کروائیں گے یا خوشدل شاہ کو موقع دیا جائے گا؟

باسط علی نے سلیکشن کمیٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بابراعظم کو سچن ٹنڈولکر کا کردار دیا جانا ایک غیر حقیقی موازنہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سہ ملکی سیریز کے فائنل میں شکست سے ٹیم کا مورال پہلے ہی کمزور ہوا ہے، اور چیمپئنز ٹرافی کے پہلے ہی میچ میں نیوزی لینڈ کا سخت چیلنج درپیش ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلیکشن کمیٹی کے فیصلے ٹیم کے مجموعی کھیل پر اثر انداز ہو رہے ہیں، اور انہیں بابراعظم کی پوزیشن میں غیر ضروری تبدیلی کرنے کے بجائے مستحکم بیٹنگ آرڈر پر توجہ دینی چاہیے تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹیم نے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی نہ کی تو چیمپئنز ٹرافی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ چیمپئنز ٹرافی کا آغاز 19 فروری سے ہوگا، جہاں گرین شرٹس کو اپنے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف میدان میں اترنا ہے، جبکہ ایونٹ کا فائنل 9 مارچ کو کھیلا جائے گا۔

Related Post

en_USEnglish