محمد ذیشان
پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان آئندہ ہونے والی وائٹ بال سیریز سے ون ڈے میچز کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس بات کی تصدیق دونوں کرکٹ بورڈز نے کر دی ہے، جس کے تحت اب سیریز میں صرف ٹی20 میچز شامل ہوں گے۔
دونوں بورڈز کے درمیان اس فیصلے کا مقصد مختصر فارمیٹ کے میگا ایونٹس کی تیاری ہے۔ اگلے سال فروری میں بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ٹی20 ورلڈکپ اور رواں سال ستمبر میں بھارت کی میزبانی میں ہونے والے ایشیا کپ کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
فیوچر ٹور پروگرام کے تحت مئی میں بنگلادیش ٹیم کو پاکستان کا دورہ کرنا تھا، جہاں انہیں تین ون ڈے اور تین ٹی20 میچز کھیلنے تھے۔ تاہم، اب سیریز میں ایک روزہ میچز کی جگہ پانچ ٹی20 میچز رکھے گئے ہیں، تاکہ دونوں ٹیمیں مختصر فارمیٹ میں اپنی تیاری کو مزید بہتر بنا سکیں۔
جولائی میں بھی پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تین ون ڈے میچز کی میزبانی پاکستان کو کرنی تھی، مگر اب اس ٹور کو بھی ٹی20 فارمیٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ گرین شرٹس اب بنگلادیش میں صرف ٹی20 میچز ہی کھیلیں گے، جس سے ان کے محدود اوورز کی کرکٹ میں مہارت میں مزید اضافہ ہوگا۔
یہ سیریز فیوچر ٹور پروگرام کا حصہ نہیں تھی، تاہم دونوں بورڈز نے اس دستیاب ونڈو کو باہمی کرکٹ کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے دونوں ٹیموں کو زیادہ سے زیادہ ٹی20 کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے گا، جو آئندہ عالمی ایونٹس کے لیے نہایت اہم ہوگا۔
اس وقت پاکستان ٹیم نیوزی لینڈ میں پانچ میچز پر مشتمل ٹی20 سیریز کھیل رہی ہے، جس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان تین ون ڈے میچز بھی کھیلے جائیں گے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف یہ سیریز پاکستان کے لیے محدود اوورز کی کرکٹ میں کارکردگی جانچنے کا ایک اہم موقع ثابت ہوگی۔
کیوی سرزمین سے واپسی کے بعد پاکستانی کھلاڑی پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شرکت کریں گے، جو 11 اپریل سے 18 مئی تک جاری رہے گی۔ پی ایس ایل کے اختتام کے بعد گرین شرٹس کو بنگلادیش کی میزبانی کرنی ہے، جہاں وہ مجوزہ ٹی20 سیریز کھیلیں گے۔
پاکستان اور بنگلادیش کرکٹ بورڈز کے اس فیصلے سے دونوں ٹیموں کو ٹی20 فارمیٹ میں مزید تجربہ حاصل ہوگا، جو عالمی مقابلوں میں بہتر کارکردگی کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے سے ون ڈے کرکٹ کے شائقین کو مایوسی ضرور ہوئی ہوگی، لیکن ٹی20 فارمیٹ کی مقبولیت کے پیش نظر اسے ایک مثبت قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

