ذیشان شریف
پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسکواڈز کے اعلان سے متعلق اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی اور ویسٹ انڈیز کے خلاف 2 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کے لیے سلیکشن کمیٹی نے ابتدائی مشاورت مکمل کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی منظوری کے بعد قومی اسکواڈز کا اعلان ہفتے کی شام تک متوقع ہے۔
چیمپئنز ٹرافی کے لیے منتخب ہونے والا ممکنہ اسکواڈ ہی 8 فروری سے شروع ہونے والی سہ فریقی ون ڈے سیریز میں پاکستان کی نمائندگی کرے گا۔ آئی سی سی کے قوانین کے تحت چیمپئنز ٹرافی کے لیے ابتدائی اسکواڈ کے نام 11 فروری کی رات 12 بجے تک جمع کرانے ضروری ہیں۔ اسکواڈ میں 15 کھلاڑیوں کے ساتھ ریزرو کھلاڑیوں کو بھی شامل کرنے کی اجازت ہوگی۔
12 فروری تک کسی بھی وقت کسی کھلاڑی کو اسکواڈ سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے بعد تبدیلی کے لیے آئی سی سی کی ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری لازمی ہوگی۔ ممکنہ کھلاڑیوں کی انجری یا دیگر مسائل کے پیش نظر متبادل کھلاڑیوں کے انتخاب پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے خلاف 17 اور 25 جنوری سے ملتان میں شیڈول ٹیسٹ میچز میں سینئر کھلاڑیوں کو آرام دینے کا امکان ہے۔ اس دوران پاکستان شاہینز اسکواڈ کے پرفارمرز کو موقع دینے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو آزمائے جانے کا موقع مل سکے۔
پاکستان ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی دوڑ سے باہر ہوچکی ہے، جس کے باعث ان ٹیسٹ میچز کو رسمی قرار دیا جا رہا ہے۔ سلیکٹرز کا ماننا ہے کہ یہ میچز نوجوان کھلاڑیوں کو تیار کرنے کا بہترین موقع ہیں جو آئندہ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-26 میں ٹیم کا حصہ بن سکیں۔
قائداعظم ٹرافی کے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں سیالکوٹ کے اذان اویس سرِفہرست ہیں، جنہوں نے 4 سنچریوں کی مدد سے 844 رنز بنائے ہیں۔ اسی طرح امام الحق نے 5 میچز میں 635 رنز کے ساتھ اپنی فارم اور فٹنس کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے، جو ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کے مضبوط امیدوار ہیں۔
پشاور ریجنز کے نیاز خان اور موسیٰ خان نے بھی شاندار بولنگ پرفارمنس کے ذریعے سلیکٹرز کی توجہ حاصل کی ہے۔ نیاز خان نے 8 میچز میں 39 شکار کیے جبکہ موسیٰ خان نے اتنے ہی میچز میں 48 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ دونوں کھلاڑیوں کا ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل ہونا متوقع ہے۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف سہ روزہ میچ 10 سے 12 جنوری تک اسلام آباد کلب میں کھیلا جائے گا، جہاں نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی پر سلیکٹرز کی خصوصی نظر ہوگی۔ یہ میچ مستقبل کے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے اہم ثابت ہوگا۔

