کیپ ٹاؤن ٹیسٹ: پاکستان کی فائٹ بیک، دوسری اننگز میں 398 رنز پر 5 وکٹیں

رپورٹر: محمد ذیشان

کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے چوتھے روز پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف دوسری اننگز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چائے کے وقفے تک 5 وکٹوں کے نقصان پر 398 رنز بنا لیے۔ پاکستان کو خسارہ ختم کرنے کے لیے مزید 23 رنز درکار ہیں، اس وقت محمد رضوان اور سلمان آغا کریز پر موجود ہیں۔ یہ میچ پاکستانی بلے بازوں کی گہرائی اور عزم کا امتحان بن چکا ہے، خاص طور پر پہلی اننگز میں مشکلات کے بعد۔

اس سے پہلے جنوبی افریقی ٹیم نے اپنی پہلی اننگز میں شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 615 رنز کا پہاڑ کھڑا کیا۔ جواب میں پاکستانی ٹیم 194 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور فالو آن کا شکار ہوئی۔ فالو آن کے بعد دوسری اننگز میں پاکستانی بلے بازوں نے قدرے بہتر کھیل پیش کیا۔

چوتھے روز کا آغاز شان مسعود اور خرم شہزاد نے 213 رنز ایک وکٹ کے نقصان پر کیا۔ خرم شہزاد 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ شان مسعود نے 145 رنز کی شاندار اننگز کھیلی لیکن ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ دیگر بلے بازوں میں کامران غلام 28 اور سعود شکیل 23 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

جنوبی افریقا کے بولرز نے اچھی کارکردگی دکھائی۔ کاگیسو رباڈا اور مارکو جانسن نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ کیوینا مپاخا نے ایک وکٹ اپنے نام کی۔

تیسرے روز پاکستان کی پہلی اننگز 194 رنز پر تمام ہوئی تھی جس کے بعد دوسری اننگز میں پاکستانی ٹیم نے بہتر آغاز کیا۔ تیسرے دن کے اختتام تک پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر 213 رنز بنائے تھے۔ شان مسعود نے ناقابل شکست سنچری اسکور کی جبکہ خرم شہزاد ان کا ساتھ دے رہے تھے۔

پہلی اننگز میں پاکستان کے کپتان محمد رضوان اور بابر اعظم نے ذمہ دارانہ بلے بازی کرتے ہوئے 98 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی۔ تاہم بابر اعظم 58 اور رضوان 46 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ دیگر بلے باز خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔

جنوبی افریقا کے بلے بازوں نے بھی پہلی اننگز میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ ریان رکلٹن نے 259 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ کائل ویرین نے سنچری اسکور کی۔ پاکستان کے بولرز محمد عباس اور سلمان آغا نے 3، 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ میر حمزہ اور خرم شہزاد نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

میچ کے پہلے روز جنوبی افریقا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 316 رنز 4 وکٹوں کے نقصان پر اسکور کیے۔ رکلٹن اور کپتان ٹیمبا بووما نے 235 رنز کی شراکت داری قائم کر کے اپنی ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔ پاکستان کو اس وقت میچ میں واپس آنے کے لیے غیر معمولی کارکردگی کی ضرورت ہے۔

Related Post

en_USEnglish