کرکٹ کے تلخ و شیریں لمحات: 2024 کا اختتام
رپورٹ: محمد ذیشان
2024 کا آخری سورج پاکستانی کرکٹ کے تلخ و شیریں لمحات دے کر غروب ہو گیا۔ سال بھر قومی ٹیم کی کارکردگی مختلف فارمیٹس میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ ٹیسٹ کرکٹ میں مجموعی کارکردگی مایوس کن رہی، اگرچہ انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں فتح ملی، لیکن 7 میچز میں صرف 2 کامیابیاں سمیٹی گئیں۔ سعود شکیل 544 رنز کے ساتھ نمایاں بیٹر رہے، جبکہ ساجد خان نے 22 وکٹیں لے کر بولنگ میں سبقت حاصل کی۔
ون ڈے انٹرنیشنل فارمیٹ میں پاکستان نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ قومی ٹیم نے تمام 7 میچز جیت کر تین سیریز اپنے نام کیں۔ صائم ایوب نے 515 رنز بنا کر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جن میں تین سنچریاں شامل ہیں۔ شاہین آفریدی نے 6 میچز میں 15 وکٹیں حاصل کیں اور بولنگ اٹیک کی قیادت کی۔
دوسری جانب ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں قومی ٹیم کی کارکردگی ناقص رہی۔ 27 میچز میں صرف 9 کامیابیاں حاصل ہوئیں، جبکہ 16 میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور 2 میچز برابر رہے۔ حتیٰ کہ ورلڈکپ میں امریکا جیسی نچلی درجہ بندی کی ٹیم سے شکست کے بعد پاکستان پہلے مرحلے میں ہی ایونٹ سے باہر ہو گیا۔
ٹیسٹ فارمیٹ میں 2024 کے دوران پاکستان نے 4 سیریز کھیلیں، جن میں سے 2 میں شکست، 1 میں کامیابی، اور 1 سیریز برابر رہی۔ جنوبی افریقہ کے خلاف سنچورین میں پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد بنگلہ دیش کے خلاف بھی ٹیم مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہاری۔ تاہم انگلینڈ کے خلاف 3 میچز کی سیریز میں 1-2 سے فتح حاصل کی گئی۔
سال کے بہترین ٹیسٹ پرفارمرز میں سعود شکیل، محمد رضوان، اور سلمان علی آغا شامل رہے، جنہوں نے بالترتیب 544، 539، اور 454 رنز بنائے۔ بولنگ میں ساجد خان نے 22 وکٹیں لے کر ٹاپ پوزیشن حاصل کی، جبکہ نعمان علی اور خرم شہزاد نے بالترتیب 20 اور 13 وکٹیں حاصل کیں۔ وکٹ کیپنگ میں محمد رضوان نے 22 کیچز تھامے۔
ون ڈے فارمیٹ میں ٹیم نے آسٹریلیا، زمبابوے، اور جنوبی افریقہ کے خلاف کامیاب سیریز کھیلی۔ جنوبی افریقہ کو 0-3 سے کلین سویپ کرنا قومی ٹیم کی سب سے بڑی کامیابی رہی۔ صائم ایوب، محمد رضوان، اور بابر اعظم ون ڈے فارمیٹ کے نمایاں بلے باز رہے، جبکہ بولنگ میں شاہین آفریدی اور حارث رؤف کا کردار نمایاں رہا۔
ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کارکردگی مایوس کن رہی، جہاں ٹیم مسلسل ناکامیوں کا شکار رہی۔ ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی اور ابتدائی مرحلے سے باہر ہونے پر شائقین کرکٹ کو شدید مایوسی ہوئی۔ یہ ناکامیاں ٹیم کے کمزور منصوبہ بندی اور عدم تسلسل کو واضح کرتی ہیں۔
2024 کے دوران کرکٹ کے میدان میں پاکستان نے کچھ یادگار لمحات بھی دیے، لیکن مجموعی طور پر یہ سال تنقید اور مایوسیوں سے بھرپور رہا۔ نئے سال میں بہتری کے امکانات اور کامیابیوں کی امید کے ساتھ قومی ٹیم کو اپنی کارکردگی کو مزید نکھارنے کی ضرورت ہے۔

