فنڈز کی کمی کے باعث پاکستان ویمنز فٹسال کوالیفائر سے دستبرداررپورٹ: ذیشان شریفپاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے اے ایف سی ایشین ویمنز فٹسال کوالیفائنگ راؤنڈ سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ کوالیفائنگ ایونٹ اگلے ماہ انڈونیشیا میں منعقد ہونا تھا، جس میں پاکستان کو گروپ بی کے میچز کھیلنے تھے۔ ویمنز فٹسال ٹیم کی عدم شرکت ایک افسوسناک پیش رفت ہے کیونکہ یہ موقع نہ صرف ٹیم بلکہ ملک کے لیے ایک اہم اعزاز ثابت ہو سکتا تھا۔پی ایف ایف نے ایونٹ میں شرکت کے لیے فیفا سے مالی معاونت کی درخواست کی تھی لیکن فیفا کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہونے کی وجہ سے ایونٹ میں شرکت ممکن نہ ہو سکی۔ فٹبال فیڈریشن نے یہ فیصلہ مجبوراً کیا کیونکہ موجودہ مالی حالات میں ٹیم کو انڈونیشیا بھیجنا ممکن نہیں رہا۔ اس فیصلے سے نہ صرف ویمنز ٹیم کے مستقبل پر اثر پڑے گا بلکہ پاکستان میں خواتین کے کھیلوں کو فروغ دینے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق، یہ مالی بحران نہ صرف ویمنز ٹیم تک محدود ہے بلکہ پاکستان کی مینز فٹبال ٹیم بھی اسی صورتحال سے دوچار ہے۔ مارچ میں ہونے والے ایشین کپ کوالیفائنگ راؤنڈز میں پاکستان کی شرکت بھی خطرے میں ہے۔ پی ایف ایف نے واضح کیا ہے کہ اگر 20 جنوری تک فنڈز کے حوالے سے کوئی مثبت جواب نہ ملا تو مینز ٹیم کو بھی ایونٹ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔یہ صورتحال پاکستان میں کھیلوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ فٹبال جیسے مقبول کھیل میں بین الاقوامی سطح پر شرکت نہ کرنا ملک کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستان میں فٹبال کے فروغ کے لیے پہلے ہی بہت کم مواقع ہیں، اور ایسے ایونٹس سے باہر ہونا ان مواقع کو مزید محدود کر دیتا ہے۔پی ایف ایف کے عہدیداروں نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی وسائل کی کمی ان کی کارکردگی کو محدود کر رہی ہے۔ فیفا کے ساتھ ساتھ ملکی حکومت سے بھی تعاون کی درخواست کی گئی تھی، لیکن تاحال کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی۔فٹبال ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے ایک مضبوط مالی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ بغیر مناسب فنڈنگ کے نہ تو کھلاڑیوں کی تربیت ممکن ہے اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر شرکت ممکن ہو سکتی ہے۔ایونٹ میں شرکت نہ کر پانے کا یہ مسئلہ صرف موجودہ صورتحال تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی فٹبال فیڈریشن کی پالیسیز اور انتظامی ناکامیوں کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچنے کے لیے پی ایف ایف کو ایک جامع مالی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کھلاڑیوں کو ان کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔اس صورتحال میں شائقین اور کھلاڑی دونوں مایوس ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ فٹبال فیڈریشن اور حکومتی ادارے مل کر اس بحران سے نکلنے کے لیے کوئی ٹھوس حل تلاش کریں گے تاکہ پاکستان فٹبال کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

