رپورٹ: ایم ذیشانپاکستان 21ویں صدی میں جنوبی افریقا کو اُس کے ہوم گراؤنڈ پر تین مرتبہ ون ڈے سیریز میں شکست دینے والی پہلی ٹیم بن گئی ہے۔ یہ تاریخی کامیابی قومی ٹیم نے کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میچ میں 81 رنز سے فتح حاصل کرکے یقینی بنائی۔گزشتہ روز ہونے والے میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوورز میں 329 رنز بنائے اور میزبان ٹیم کو 330 رنز کا ہدف دیا۔ ہینرچ کلاسن کے علاوہ جنوبی افریقا کے کوئی بھی بیٹر پاکستانی بولرز کے سامنے کھڑے نہ رہ سکے، اور یوں پاکستان نے مسلسل دوسرے میچ میں فتح حاصل کرتے ہوئے سیریز میں 0-2 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کرلی۔یہ پاکستان کی جنوبی افریقا کے خلاف اُس کے ہوم گراؤنڈ پر تیسری ون ڈے سیریز جیت ہے۔ اس سے قبل گرین شرٹس نے 2013 اور 2021 میں بھی پروٹیز کے خلاف سیریز اپنے نام کی تھی۔پاکستان نے مجموعی طور پر جنوبی افریقا میں سات دو طرفہ ون ڈے سیریز کھیلی ہیں، جن میں سے تین بار کامیابی حاصل کی۔ اس کارنامے کے ساتھ پاکستان جنوبی افریقا میں تین یا اس سے زیادہ ون ڈے سیریز جیتنے والی دوسری ٹیم بھی بن گئی ہے۔اس تاریخی کامیابی نے پاکستان کو ایک منفرد مقام دیا ہے۔ آسٹریلیا بھی جنوبی افریقا میں تین ون ڈے سیریز جیت چکا ہے، لیکن اس نے یہ فتوحات 1997، 2002، اور 2011 میں حاصل کیں۔ آسٹریلیا نے جنوبی افریقا کے خلاف دس ون ڈے سیریز کھیلیں، جبکہ پاکستان نے سات میں سے تین سیریز جیتی ہیں۔کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے دوسرے میچ میں پاکستان کے بلے بازوں اور بولرز نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ ٹیم کے مجموعی اسکور اور بولرز کی عمدہ لائن اور لینتھ نے جنوبی افریقا کے لیے مشکلات پیدا کیں، جو میزبان ٹیم کو شکست دینے میں کلیدی کردار ادا کرگئیں۔جنوبی افریقا میں ون ڈے سیریز جیتنے کے اس تسلسل نے پاکستانی ٹیم کو ایک نئے اعتماد سے نوازا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ٹیم کی موجودہ فارم کو ظاہر کرتی ہے بلکہ مستقبل کے بڑے ایونٹس کے لیے ایک مثبت اشارہ بھی ہے۔پاکستانی ٹیم کی اس شاندار کارکردگی کو ماہرین کرکٹ اور شائقین نے بھی بھرپور سراہا ہے۔ قومی ٹیم کا یہ کارنامہ کرکٹ کی تاریخ میں یادگار رہے گا اور اگلے میچز میں ٹیم کے مورال کو مزید بلند کرے گا۔

