چیمپئنز ٹرافی کے معاملے پر پاکستان ہائبرڈ ماڈل نہ ماننے کے موقف پر برقرار
رپورٹ: محمد ذیشان
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر کوئی قابل عمل فارمولا پیش کیا گیا تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔ پی سی بی نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ بغیر کسی ٹھوس وجہ کے ٹورنامنٹ نیوٹرل وینیو پر منتقل کرنا ناقابل قبول ہوگا۔
پاکستان نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) اور آئی سی سی کو یہ دوٹوک موقف دیا ہے کہ اگر آئی سی سی نیوٹرل وینیو پر منتقلی کا مطالبہ کرتی ہے تو پاکستان مستقبل میں بھارت جاکر کھیلنے پر بھی غور نہیں کرے گا۔ پی سی بی کا اصرار ہے کہ میزبانی کا حق کسی صورت ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔
گزشتہ روز آئی سی سی نے چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے حوالے سے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی سی بی، بی سی سی آئی، اور آئی سی سی مل کر ایک قابل عمل فارمولا تلاش کریں گے تاکہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
پی سی بی کے اس سخت موقف کے بعد بھارت کے نائب صدر سمیت کئی اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں، جن میں بھارتی حکومت اور کرکٹ بورڈ کے متضاد بیانات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
ہنگامی اجلاس صرف 15 منٹ تک جاری رہا لیکن اس دوران کسی حتمی فیصلے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ اجلاس کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ مسئلے پر مزید غور کرنے کے لیے اجلاس کو آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
پی سی بی نے اجلاس کے بعد مختلف اسٹیک ہولڈرز سے رابطے کیے اور اپنے مؤقف کی وضاحت پیش کی۔ حکام نے زور دیا کہ پاکستان کی میزبانی کے حق کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ ہونا چاہیے۔
پاکستان کا اصرار ہے کہ بھارت کے انکار کے باوجود ٹورنامنٹ پاکستان میں منعقد ہو سکتا ہے، بشرطیکہ آئی سی سی اور دیگر ممبرز اس پر متفق ہوں۔ اس موقف کے ساتھ پی سی بی نے اپنی حکمت عملی مزید واضح کرتے ہوئے آئی سی سی سے تعاون کی توقع ظاہر کی ہے۔
چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع نے انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک نئے بحران کو جنم دیا ہے۔ اگلے اجلاس میں اس معاملے پر کوئی ٹھوس پیش رفت ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔

