پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بھارت کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے باوجود آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں مائنس بھارت فارمولے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، پی سی بی اپنے مؤقف کو مستحکم کرنے کے لیے 1996 اور 2003 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی مثالیں پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جب کچھ ٹیموں نے سیاسی یا سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر میچز کھیلنے سے انکار کیا تھا۔

1996 کے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سری لنکا میں کھیلنے سے انکار کیا تھا، جبکہ 2003 میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ نے اپنے میچز کینیہ اور زمبابوے میں نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آئی سی سی نے ان میچز میں انکار کرنے والی ٹیموں کے حریفوں کو پوائنٹس دے دیے تھے، اور وینیو بھی تبدیل نہیں کیا گیا تھا۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ ماضی کی ان مثالوں کی بنیاد پر پاکستان بھی اپنا مؤقف مضبوط رکھے گا اور اگر بھارت چیمپئنز ٹرافی میں شریک نہیں ہوتا تو پاکستان کو اس کا متبادل حل ملنا چاہیے۔ پی سی بی کے مطابق، اگر کسی ٹیم کی شرکت ممکن نہ ہو تو اس کے میچز میں دوسرے ٹیموں کو پوائنٹس دئے جانے چاہئیں، جیسے ماضی میں کیا گیا تھا۔ اس تجویز کا مقصد پاکستان کرکٹ کی عزت و وقار کا تحفظ کرنا اور کسی بھی صورت میں پاکستان کے مفادات کا خیال رکھنا ہے۔

اس پس منظر میں پی سی بی کی جانب سے بھارت کے ساتھ کرکٹ تعلقات پر واضح مؤقف دیکھنے کو مل رہا ہے، جس میں ماضی کی مثالوں کا حوالہ دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں چیمپئنز ٹرافی جیسے بڑے ایونٹس میں پاکستان کا مؤقف مضبوط ہو۔

Related Post

en_USEnglish